بنگلورو،24/ستمبر(پی ٹی آئی) ویراشیواس۔ لنگایت عقیدے کو الگ مذہب کی حیثیت کے لئے تیز مہم کے درمیان وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج کہاکہ اس تعلق سے کی جارہی ریلیوں کے اہتمام سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ویرا شیواس اور لنگایتوں کو ایک مذہب کے طورپر پیش کرنے طبقے کے اندر ہی بے چینی کے ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے کچھ وزراء کی جانب سے لیاگیا موقف ’’ان کا نجی‘‘ ہے۔ ریلیوں میں وزراء کی شرکت اور جانبداری کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’کیا وزراء کی اپنی رائے نہیں ہے؟ کیا ایسا کچھ ہے کہ میں جو کہوں وہ سنیں؟ حکومت سے متعلق معاملات میں وہ مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔ حکومت سے غیر متعلق معاملات میں وہ اپنا منہ بند نہیں کرسکتے۔‘‘ اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے کے پیش نظر ویراشیوا لنگایت کو الگ مذہب کی حیثیت دینے کا مطالبہ طبقے کے اندر بڑھ رہاہے۔ خصوصیت کے ساتھ شمالی کرناٹک کے حصوں میں، لیڈر اور سوامی جو یہ تشہیر کررہے ہیں کہ لنگایت ویراشیواس سے الگ ہیں۔ آج انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے طورپر کلبرگی میں ایک بڑا عوامی جلسہ کیا۔ جبکہ اکھل بھارت ویراشیوا مہاسبھا کے تحت ایک طبقہ، الگ مذہب کا مطالبہ کررہا ہے۔ جبکہ دوسرا چاہتاہے کہ ویرا شیوا اور لنگایت ایک ہیں۔ اس لئے کہ ان کا یقین ہے کہ ویرا شیوا، شیواس کے سات طبقوں میں ایک ہے جو ہندوازم کا ایک حصہ ہے۔ بی جے پی اور ہندوؤں کے کچھ طبقے ویراشیوا لنگایت کو الگ مذہب کی حیثیت دینے کے خلاف ہیں اور انہوں نے سدارامیا حکومت پر اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ حاصل کرنے سماج کو تقسیم کرنے کا الزام لگایاہے۔